|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 5: مقبول
و مردود
دونوں قسم کی
احادیث پر
مشتمل تقسیم |
||
|
سبق 2:
"مَرفُوع"
حدیث لغوی
اعتبار سے
'مرفوع'، رفع
کا اسم مفعول
ہے جس کا معنی
ہے بلند
ہونا۔ حدیث
کو یہ نام
دینے کی وجہ
یہ ہے کہ اس
حدیث کی نسبت
اس ہستی کی
طرف ہے جن کا
درجہ بلند ہے
یعنی نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم۔
اصطلاحی
مفہوم میں ایسی
حدیث کو
مرفوع کہا
جاتا ہے جس کی
نسبت رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم سے کی
گئی ہو۔ اس
حدیث میں آپ
کا ارشاد،
عمل، صفت
یا تقریر
(یعنی خاموشی
کے ذریعے کسی
کام کی اجازت
دینے) کو بیان
کیا گیا ہوتا
ہے۔ مرفوع
ایسی حدیث کو
کہا جاتا ہے
جس میں کسی قول،
عمل، صفت یا
تقریر (یعنی
خاموش رہ کر
اجازت دینے)
کی نسبت رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
سے کی گئی ہو۔
یہ نسبت کسی
صحابی نے
بیان کی ہو یا
کسی اور نے،
اس سے کوئی
فرق نہیں
پڑتا۔ حدیث
کی سند خواہ
متصل ہو یا
منقطع، وہ
مرفوع ہی
کہلائے گی۔
اس تعریف کے
اعتبار سے
مرفوع میں
موصول، مرسل،
متصل، منقطع
ہر قسم کی
روایت شامل
ہو جاتی ہے۔
یہ تعریف
مشہور ہے
لیکن اس ضمن
میں دیگر
نقطہ ہائے
نظر بھی
موجود ہیں۔ تعریف کے
اعتبار سے
مرفوع حدیث
کی چار اقسام
ہیں: · مرفوع
قولی: جس میں
کسی قول کی
نسبت حضور
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم سے کی
گئی ہو۔ · مرفوع
فعلی: جس میں
کسی فعل یا
عمل کی نسبت
حضور صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
سے کی گئی ہو۔ · مرفوع
تقریری: جس
میں یہ بیان
کیا گیا ہو کہ
کوئی کام
حضور صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے سامنے کیا
گیا تو آپ نے
اس سے روکا
نہیں۔ اس سے
اس کام کا
جائز ہونا
ثابت کیا جا
سکتا ہے۔ · مرفوع
وصفی: جس میں
کسی صفت کی
نسبت حضور
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم سے کی
گئی ہو۔ · مرفوع
قولی کی مثال
یہ ہے کہ
صحابی یا
کوئی اور یہ
بیان کرے، "رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔" · مرفوع
فعلی کی مثال
یہ ہے کہ
صحابی یا
کوئی اور یہ
بیان کرے، "رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے اس طرح
سے یہ کام
کیا۔۔۔۔۔" · مرفوع
تقریری کی
مثال یہ ہے کہ
صحابی یا
کوئی اور یہ
بیان کرے، "رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم کی موجودگی
میں ایسا کیا
گیا۔۔۔۔۔"۔ یہ بات
روایت نہ کی
گئی ہو کہ آپ
نے اس کام کو دیکھ
کر اس سے منع
فرمایا۔ · مرفوع
وصفی کی مثال
یہ ہے کہ
صحابی یا کوئی
اور یہ بیان
کرے، "رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم لوگوں میں
سب سے عمدہ
اخلاق کے
حامل تھے۔" ·
مرفوع
حدیث کی
تعریف بیان
کیجیے۔ ·
مرفوع
حدیث کی
مختلف اقسام
بیان کیجیے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||