|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 4: مسترد
شدہ خبر |
||
|
سبق 25:
"شاذ" اور
"محفوظ" حدیث لغوی
اعتبار سے
"شاذ"، شذ کا
اسم مفعول ہے
جو کہ
انفرادیت کو
ظاہر کرتا
ہے۔ شاذ کا
معنی ہے اکثریت
کے مقابلے پر
اکیلا (Exceptional)
ہونا۔
اصطلاحی
مفہوم میں
شاذ ایسی قابل
قبول روایت
کو کہتے ہیں
جو کہ کسی
دوسری اپنے
سے زیادہ
مضبوط روایت
کے خلاف ہو۔ شاذ
روایت قابل
قبول ہوا
کرتی ہے
کیونکہ اس کے
راوی اچھے
کردار کے اور
احادیث کو
محفوظ کرنے
والے ہوتے
ہیں۔ دوسری
روایت اس کی
نسبت قابل ترجیح
اس وجہ سے
ہوتی ہے کہ اس
کے راوی
زیادہ ثقہ
ہوں یا اسے متعدد
اسناد سے
روایت کیا
گیا ہو یا کسی
اور وجہ سے
ترجیح دی گئی
ہو۔ (جس حدیث
کو ترجیح دی
جائے وہ
محفوظ
کہلاتی ہے۔) شاذ
حدیث کی
تعریف سے
متعلق
ماہرین میں
اختلاف رائے
ہے لیکن یہ وہ
تعریف ہے جسے
حافظ ابن حجر
نے اختیار
کیا ہے اور
فرمایا ہے،
"اصطلاحات کے
علم میں یہ
تعریف زیادہ
قابل اعتماد
ہے۔" (النخبة
وشرحها ص 37) شذوذ
(شاذ ہونا)
کہاں پایا
جاتا ہے؟ کسی حدیث
کی سند یا متن
دونوں میں
شذوذ پایا جا
سکتا ہے۔ سند
میں شذوذ
پائے جانے کی
مثال یہ حدیث
ہے۔ ترمذی،
نسائی، ابن
ماجہ اپنی
سندوں سے ابن
عینیہ، وہ
عمرو بن
دینار سے، وہ
عوسجۃ سے اور
وہ سیدنا ابن
عباس رضی
اللہ عنہما
سے روایت
کرتے ہیں کہ
ایک شخص رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے زمانے میں
فوت ہو گیا۔
اس کا سوائے
ایک آزاد
کردہ غلام کے
کوئی وارث نہ
تھا جسے وہ
پہلے ہی آزاد
کر چکا تھا۔ ابن
عینیہ نے اس
حدیث کو ابن
جریج وغیرہ
سے بھی روایت
کیا ہے۔ حماد
بن زید نے اس
سند سے مختلف
ایک سند پیش
کی ہے جس میں
انہوں نے
عمرو بن دینار
اور عوسجۃ سے
روایت کیا ہے
لیکن سیدنا
ابن عباس رضی
اللہ عنہما
کا کوئی ذکر
نہیں کیا۔ ان
دونوں
روایتوں میں
سے ابو حاتم
نے ابن عینیہ
کی روایت کو
ترجیح دی ہے۔
حماد بن زید
بھی اگرچہ
کردار اور
ضبط کے معاملے
میں ثقہ راوی
ہیں لیکن ابو
حاتم نے ابن عینیہ
کی روایت کو
کثرت تعداد
کے باعث
ترجیح دی ہے۔ متن میں
شذوذ پائے
جانے کی مثال
یہ حدیث ہے: ابو داؤد
اور ترمذی
اپنی سند سے
عبدالواحد
بن زیاد سے،
وہ اعمش سے،
وہ ابو صالح
سے اور وہ
سیدنا ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ
سے مرفوع
روایت کرتے
ہیں کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے فرمایا،
"جب تم سے
کوئی فجر کی
نماز ادا کرے
تو اس کے بعد وہ
(اگر سونا
چاہے تو)
دائیں کروٹ
پر سوئے۔" امام بیہقی
کہتے ہیں کہ
اس حدیث کو
بیان کرنے
میں عبدالواحد
نے اس سے
مختلف بات کی
ہے جو کثیر
تعداد میں
لوگوں نے
بیان کی ہے۔
فجر کے بعد
دائیں کروٹ
پر سونا نبی
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم کا عمل
ہے نہ کہ آپ کا
ارشاد۔ اعمش
کے ثقہ
شاگردوں میں
صرف
عبدالواحد
ہی ایسے شخص
ہیں جو اس
حدیث کو حضور
کے قول کے طور
پر روایت کر رہے
ہیں (جبکہ ان
کے باقی
شاگرد اس کو
آپ کے عمل کے
طور پر روایت
کرتے ہیں۔) محفوظ اس
حدیث کو کہتے
ہیں جس کی
مخالفت کے باعث
دوسری حدیث
کو شاذ قرار
دیا جائے۔ اس
کی مثالیں
اوپر گزر چکی
ہیں۔ شاذ حدیث
کو مسترد کر
دیا جائے گا
اور محفوظ حدیث
کو قبول کیا
جائے گا۔ ·
شاذ اور
محفوظ حدیث
میں فرق بیان
کیجیے۔ ·
ان دونوں
کا حکم بیان
کیجیے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||