|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 4: مسترد
شدہ خبر |
|||
|
سبق 24:
"مُصحَّف"
حدیث لغوی اعتبار
سے "مصحف"،
تصحیف کا اسم
مفعول ہے جس
کا مطلب ہے
صحیفے یا
کتاب کو
پڑھنے میں
غلطی کرنا۔
اسی سے لفظ
"مصحفی" نکلا
ہے جو اس شخص
کو کہتے ہیں
جو کتاب کو
پڑھنے میں
غلطی کر
بیٹھے اور اس
وجہ سے الفاظ
کو تبدیل کر
کے کچھ کا کچھ
بنا دے۔ اصطلاحی
مفہوم میں یہ
اس حدیث کو
کہتے ہیں جس
کے ثقہ
راویوں سے
منقول الفاظ
یا معانی میں
غلطی سے
تبدیلی کر دی
گئی ہو۔ (فنون
حدیث میں
مصحف حدیث کا)
یہ فن نہایت
ہی خوبصورت
اور مشکل فن
ہے۔ اس کی
اہمیت اس وجہ
سے ہے کہ حدیث
کو روایت
کرنے میں
راویوں سے جو
غلطیاں سرزد
ہو گئی ہوں،
ان کا پتہ
چلایا جائے۔
اس عظیم کام
کا بیڑا وہی
لوگ اٹھا
سکتے ہیں جو
امام دارقطنی
جیسے ماہر
اور حافظ
حدیث ہوں۔ اہل علم
نے مصحف حدیث
کی کئی
طریقوں سے
تقسیم کی ہے۔ 1۔ موقع کے
اعتبار سے
تقسیم موقع کے
اعتبار سے
مصحف حدیث کو
دو اقسام میں
تقسیم کیا جا
سکتا ہے: · اسناد
میں تصحیف: اس
کی مثال وہ
حدیث ہے جس
میں شعبہ نے
العوام بن
مراجم سے
روایت کی ہے۔
اس حدیث کو
لکھتے ہوئے
غلطی سے ابن
معین نے
"العوام بن
مزاحم" لکھ
دیا ہے۔ · متن میں
تصحیف: اس کی
مثال سیدنا
زید بن ثابت رضی
اللہ عنہ کی حدیث
ہے جس میں یہ
الفاظ ہیں "احتجر فی
المسجد۔۔۔یعنی نبی
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے مسجد
میں ان کاموں
سے منع
فرمایا۔۔۔۔" ابن لہیعۃ نے
اس حدیث کو اس
طرح سے لکھ
لیا ہے، "احتجم فی
المسجد۔۔۔ یعنی نبی
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے مسجد
میں پچھنے
لگوائے۔" 2۔ تصحیف کی
وجہ کے
اعتبار سے
تقسیم وجہ کے
اعتبار سے
بھی تصحیف کی
دو اقسام ہیں: · پڑھنے
میں تصحیف: یہ
اکثر اوقات
ہو جاتی ہے۔ اس
کی وجہ یہ ہے
کہ پڑھنے
والا تحریر
کو صحیح طور
پر سمجھ نہیں
پاتا جس کی
وجہ خراب
رائٹنگ یا نقاط
کا موجود نہ
ہونا ہوتی
ہے۔ اس کی
مثال یہ حدیث
ہے "من صام
رمضان و
اتبعہ ستا من
الشوال۔۔۔ یعنی جس
نے رمضان کے
روزے رکھے
اور اس کے بعد
شوال کے چھ
روزے بھی
رکھے۔۔۔"۔ اس حدیث کو
ابوبکر
الصولی نے
غلطی سے اس
طرح لکھ دیا
ہے، "من صام
رمضان و
اتبعہ شیئا
من الشوال۔۔۔ یعنی جس
نے رمضان کے
روزے رکھے
اور اس کے بعد
شوال میں کچھ
کر کے اس کی
پیروی کی۔۔۔۔"۔ · سننے
میں تصحیف:
بعض اوقات
حدیث کو صحیح
طور پر نہ
سننے یا سننے
والے کے دور
بیٹھنے کے
باعث غلطی
لاحق ہو جاتی
ہے۔ بولنے
والا کچھ
بولتا ہے اور
سننے والا اس
سے ملتا جلتا
کوئی اور لفظ سمجھ
بیٹھتا ہے۔
اس کی مثال وہ
حدیث ہے جو "عاصم
الاحول" سے
روایت کی گئی
ہے لیکن بعض
لوگوں نے اس
نام کو "واصل
الاحدب" لکھ
دیا ہے۔ 3۔ لفظ اور
معنی کے
اعتبار سے
تقسیم لفظ اور
معنی کے
اعتبار سے
تصحیف بھی دو
طرح کی ہوتی
ہے: · لفظ
میں تصحیف: اس
کی مثالیں
اوپر گزر چکی
ہیں۔ · معنی میں
تصحیف: اس میں
حدیث کا لفظ
تو اپنی اصل
حالت میں
برقرار رہتا
ہے لیکن اس سے
کوئی ایسا
معنی مراد لے
لیا جاتا ہے
جو درحقیقت
مراد نہیں
ہوتا۔ اس کی
مثال یہ ہے کہ
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے
"عنزۃ" کے لئے
دعا فرمائی۔
ابو موسی
العنزی یہ
حدیث سن کر
کہنے لگے، "ہماری قوم
کو یہ شرف
حاصل ہے کہ
رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے ہمارے
لئے دعا
فرمائی۔" وہ یہ سمجھے
کہ اس حدیث
میں "عنزۃ" سے
مراد ان کا
قبیلہ بنو
عنزۃ ہے
حالانکہ
عنزۃ اس نیزے
کو کہتے ہیں
جو کہ نماز
پڑھنے والا
اپنے سامنے گاڑ
لیتا ہے (تاکہ
نمازی اس کے
آگے سے گزر
سکیں۔ ایسا
کرنے والے کے
لئے آپ نے دعا
فرمائی۔) 4۔
حافظ ابن حجر
کی "مصحف"
حدیث کی
تقسیم حافظ ابن
حجر نے ایک
اور طریقے سے
مصحف حدیث کو
دو اقسام میں
تقسیم کیا ہے: · مصحف:
یہ وہ حدیث ہے
جس میں تحریر
تو باقی رہے لیکن
غلطی سے نقاط
میں تبدیلی
واقع ہو جائے
(جیسے 'ف' کو 'ق'
یا 'ج' کو 'خ'
سمجھ لیا
جائے۔) · محرف:
یہ وہ حدیث ہے
جس میں تحریر
تو باقی رہے لیکن
غلطی سے حرف
میں تبدیلی
واقع ہو جائے
(جیسے 'ف' کو 'غ'
یا 'ج' کو 'د' میں
تبدیل کر دیا
جائے۔) کیا
تصحیف کی وجہ
سے راوی پر
الزام عائد
کیا جاتا ہے؟ اگر کسی
راوی سے شاذ و
نادر تصحیف
ہو جائے تو اس
سے اس کی حدیث
کی محفوظ
کرنے کی
صلاحیت پر کوئی
فرق نہیں
پڑتا کیونکہ
کوئی شخص بھی
تھوڑی بہت
غلطی کرنے سے
پاک نہیں ہے۔
لیکن اگر وہ کثرت
سے تصحیف
(غلطی) کرتا ہو
تو اس کا مطلب
ہے کہ وہ کمزور
شخص ہے اور
ثقہ راوی کے
درجے کا نہیں
ہے۔ تصحیف اس
راوی سے اکثر
اوقات ہو
جایا کرتی ہے جو
حدیث کو کسی
شیخ سے سنے
بغیر کتاب سے
نقل کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ
ائمہ حدیث نے
کہا ہے کہ اس شخص
سے حدیث کو
قبول نہیں
کرنا چاہیے
جو سنے بغیر
صرف کتاب پڑھ
کر حدیث
روایت کرتا
ہے۔
"مصحف"
حدیث سے
متعلق مشہور
تصانیف · دارقطنی
کی "التصحیف" · خطابی
کی "اصطلاح
خطاء
المحدثین" · ابو
احمد
العسکری کی
"تصحیفات
المحدثین" ·
تصحیف کی
تعریف اور اس
کی مختلف
اقسام بیان
کیجیے۔ ·
تصحیف کی
وجوہات کیا
ہوتی ہیں؟ ·
اوپر
بیان کردہ
کتب کو
انٹرنیٹ پر
تلاش کیجیے۔ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||