|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری،
امن اور
انسانیت کی
محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک
تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم:
خبر (حدیث) یونٹ 4:
مسترد شدہ
خبر |
|||
|
سبق 22:
"المزید فی
مُتصل
الاسانید" حدیث "المزید
فی متصل
الاسانید" حدیث
کی تعریف لغوی
اعتبار سے
"مزید"، "زیادۃ"
سے اسم مفعول
ہے اور اس کا
معنی ہے
"اضافہ کی گئی
چیز"۔ متصل،
منقطع کا
متضاد ہے اور
اس کا معنی ہے
ملا ہوا۔
اسانید، سند
کی جمع ہے۔
اصطلاحی
مفہوم میں یہ
اس حدیث کو
کہتے ہیں جس کی
ملی ہوئی سند
میں کوئی
اضافہ پایا
جاتا ہو۔
"المزید
فی متصل الاسانید"
حدیث کی مثال ابن مبارک،
سفیان سے، وہ
عبدالرحمٰن
بن یزید سے،
وہ بسر بن عبیداللہ
سے، وہ ابو
ادریس سے، وہ
واثلہ سے،
اور واثلہ سیدنا
ابو مرثد رضی
اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں
کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے فرمایا:
"قبروں پر نہ
بیٹھو اور نہ
ہی ان کی طرف
منہ کر کے
نماز ادا کرو۔"
(رواه
مسلم ـ كتاب
الجنائز) اس حدیث میں
دو مقامات پر
اضافہ کیا گیا
ہے۔ ایک تو
"سفیان" اور
دوسرے "ابو
ادریس" کے
ناموں میں۔
ان دونوں
مقامات پر
اضافے کی وجہ
راوی کی غلط
فہمی ہے۔
جہاں تک "سفیان"
کے نام میں
اضافے کا
تعلق ہے تو اس
کی وجہ ابن
مبارک کے بعد
کے کسی راوی کی
غلط فہمی ہے کیونکہ
متعدد ثقہ
راویوں نے ایسی
روایات بیان
کی ہیں جن میں
ابن مبارک نے
عبدالرحمٰن
بن یزید سے
براہ راست
احادیث روایت
کی ہیں۔ ان میں
سے بہت سے
لوگوں نے
واضح الفاظ میں
اسے بیان کیا
ہے۔ جہاں
تک "ابو ادریس"
کے نام کے
اضافے کا
تعلق ہے، تو
اس کی وجہ ابن
مبارک کو
لاحق ہونے
والی غلط فہمی
ہے کیونکہ
بہت سے ثقہ
راویوں نے
عبدالرحمٰن
بن یزید سے ایسی
احادیث روایت
کی ہیں جن میں
ابو ادریس کا
کوئی ذکر نہیں
ہے۔ بہت سے
ثقہ ماہرین
نے صراحت سے بیان
کیا ہے کہ بسر
بن عبداللہ
نے براہ راست
اس حدیث کو
واثلہ سے روایت
کیا ہے (اور
ابو ادریس کا
نام اس میں
اضافی ہے۔) اضافے کو
مسترد کرنے کی
شرائط دو ہیں۔ · جو
روایت اضافے
کے بغیر ہو،
اس کے راوی
اضافے والی
روایت کے راویوں
سے زیادہ
ماہر ہوں۔ · جس
مقام پر
اضافہ موجود
ہو، وہاں ایک
راوی کا اپنے
شیخ الشیخ سے
براہ راست حدیث
روایت کرنا
ثابت شدہ ہو۔ اگر یہ
دونوں یا ان میں
سے ایک بھی
شرط پوری نہ
ہو تو پھر
اضافے والی
روایت کو ترجیح
دی جائے گی
اور بغیر
اضافے کی روایت
کو "منقطع"
قرار دے دیا
جائے گا۔ یہ
انقطاع مخفی
نوعیت کا ہو
گا۔ اسی وجہ
سے ایسی روایت
کو "مرسل خفی"
کہا جاتا ہے۔ سند میں
کسی نام کو
اضافہ قرار دینے
سے متعلق دو
اعتراضات پیش
کئے جاتے ہیں: · جس
سند میں
اضافہ نہ پایا
جاتا ہو اور
اس میں لفظ
"عن" کہہ کر
روایت کی گئی
ہو تو اس میں یہ
امکان موجود
ہے کہ سند
منقطع ہو۔ · اگرچہ
ایک شخص کا
اپنے شیخ الشیخ
سے براہ راست
حدیث سننا
ثابت بھی ہو،
تب بھی یہ
ممکن ہے کہ اس
شخص نے دوسرے
سے حدیث سنی
اور دوسرے نے
اس شخص کے شیخ
الشیخ سے اس
حدیث کو سنا
ہو۔ جہاں تک
تو پہلے
اعتراض کا
تعلق ہے تو یہ
درست ہے۔ رہا
دوسرا
اعتراض، تو
اس میں بیان کی
گئی صورتحال
ممکن ہے لیکن
اہل علم اس
وقت ہی اضافے
کا حکم لگاتے
ہیں جب کچھ
شواہد و
قرائن اس کی
حمایت کے لئے
موجود ہوں۔ "المزید
فی متصل
الاسانید" حدیث
سے متعلق
مشہور تصنیف خطیب
بغدادی کی
کتاب "تمییز
المزید فی
متصل الاسانید"۔ ·
المزید فی
متصل الاسانید
کی تعریف بیان
کیجیے۔ ·
اوپر بیان
کردہ کتاب کو
انٹرنیٹ پر
تلاش کیجیے۔ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و تلخیص / اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||