|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم:
خبر (حدیث) یونٹ 4:
مسترد شدہ
خبر |
|||
|
سبق 14:
"مُنکَر" حدیث لغوی
اعتبار سے
منکر، انکار
کا اسم مفعول
ہے جو کہ اقرار
کا متضاد ہے۔
اصطلاحی
مفہوم میں حدیث
کے ماہرین نے
اس کی متعدد
تعریفیں کی ہیں
جن میں سے
مشہور ترین یہ
ہیں: ایک
تعریف تو وہ
ہے جو حافظ
ابن حجر نے بیان
کر کے اسے کسی
اور سے منسوب
کیا ہے۔ اس کے
مطابق، "منکر
وہ حدیث ہے جس
کی اسناد میں
کوئی ایسا
راوی ہو جو
کثرت سے غلطیاں
کرتا ہو، یا
عام طور پر
لاپرواہی
برتتا ہو یا
پھر اس کا
گناہوں میں
مشغول ہونا
مشہور ہو۔" (النخبة
وشرحها ص 47) دوسری
تعریف بیقونی
نے اپنی نظم میں
کی ہے۔ اس کے
مطابق "منکر
وہ حدیث ہے جس
کی سند میں
موجود راوی
ضعیف ہو اور یہ
روایت ثقہ
راوی کی روایت
کے مخالف ہو۔"
اصل شعر یہ ہے: و
منکر انفرد
به راو غدا تعديله
لا يحمل
التفردا منکر وہ
حدیث ہے جس کا
راوی منفرد
بات کرے۔ اور
قابل اعتماد
راوی کی حدیث
اس کے خلاف ہو۔ یہ
تعریف حافظ
ابن حجر نے بیان
کر کے اسی پر
اعتماد کیا
ہے۔ اس میں
پہلی تعریف کی
نسبت یہ
اضافہ موجود
ہے ضعیف راوی،
ثقہ راوی کی
روایت کے
مخالف حدیث بیان
کرے۔ شاذ وہ حدیث
ہوتی ہے جسے
کوئی قابل
اعتماد راوی
بیان کر رہا
ہو لیکن وہ اس
راوی سے بھی زیادہ
کسی قابل
اعتماد راوی
کی بیان کردہ
حدیث کے خلاف
مفہوم پیش کر
رہی ہو۔ اس کے
برعکس منکر
وہ حدیث ہوتی
ہے جسے
ناقابل
اعتماد ضعیف
راوی بیان کر
رہا ہوتا ہے
اور وہ ثقہ
راویوں کی حدیث
کے خلاف ہوتی
ہے۔ اس سے یہ
جان لینا چاہیے
کہ منکر اور
شاذ احادیث میں
یہ بات مشترک
ہے کہ یہ صحیح
احادیث کے
خلاف ہوتی ہیں
لیکن ان میں
فرق یہ ہے کہ
شاذ کا راوی
ثقہ ہوتا ہے
اور منکر کا
ضعیف۔ حافظ
ابن حجر کہتے
ہیں کہ ان
دونوں کو ایک
ہی سمجھنا
لاپرواہی ہے۔
پہلی تعریف
کی مثال یہ ہے۔ نسائی
اور ابن ماجہ
ابی زکیر یحیی
بن محمد بن قیس
سے، وہ ہشام
بن عروۃ سے،
وہ اپنے والد
سے، وہ سیدہ
عائشہ رضی
اللہ عنہا سے
روایت کرتے ہیں
کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے فرمایا،
"کچی کھجوریں
کھایا کرو کیونکہ
جب ابن آدم
انہیں کھاتا
ہے تو شیطان
کو غصہ آتا ہے۔"
امام
نسائی اس حدیث
کو بیان کرنے
کے بعد کہتے ہیں
کہ یہ حدیث،
منکر کے درجے
کی ہے۔ اس کے بیان
کرنے والے
صرف اور صرف
ابو زکیر ہیں۔
اگرچہ وہ نیک
انسان تھے
(مگر ثقہ نہیں
تھے۔) مسلم نے
اس حدیث کو
محض اضافی
طور پر روایت
کیا ہے۔ ایسا
نہیں ہے کہ
انہیں کوئی
اور روایت ملی
ہو جس سے اس
روایت کی
انفرادیت
ختم ہو گئی ہو۔
(التدريب
جـ1 ـ ص 240) دوسری
تعریف کی
مثال یہ ہے: ابن ابی
حاتم نے اپنی
سند سے حبیب
بن حبیب الزیات
سے، انہوں نے
ابو اسحاق
سے، انہوں نے
عیزار بن حریث
سے اور انہوں
نے سیدنا ابن
عباس رضی
اللہ عنہما
سے روایت کی
ہے کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا،
"جس نے نماز
قائم کی، زکوۃ
ادا کی، حج بیت
اللہ کیا،
روزے رکھے،
اور مہمان کی
خاطر مدارت کی،
وہ جنت میں
داخل ہو گا۔" ابن
ابی حاتم اس
حدیث کے
متعلق کہتے ہیں
کہ یہ حدیث
منکر ہے کیونکہ
ابو اسحاق سے
اس سے متضاد
مفہوم میں
ثقہ راویوں
نے حدیث روایت
کی ہے اور وہ
حدیث "معروف"
ہے۔ منکر کی
ان دونوں تعریفوں
سے یہ واضح ہو
گیا کہ یہ بہت
ہی ضعیف حدیث
ہوتی ہے۔ روایت
کا منکر ہونا
خواہ راوی کی
کثیر اور بڑی
بڑی غلطیوں کی
وجہ سے ہو، یا
لاپرواہی کی
وجہ سے، یا
فسق و فجور کی
وجہ سے یا صحیح
احادیث کی
مخالفت کی
وجہ سے، ان میں
ہر وجہ کی بنیاد
پر منکر حدیث
میں شدید
کمزوری پائی
جاتی ہے۔ جیسا
کہ ہم "متروک
حدیث" کی بحث میں
بیان کر چکے ہیں
کہ منکر حدیث
کی کمزوری کا
درجہ (موضوع
اور) متروک کے
بعد (تیسرے
نمبر پر) ہے۔ لغوی
اعتبار سے
"عرف" کا اسم
مفعول ہے اور
اس کا مطلب ہے
جانی پہچانی
چیز۔ اصطلاحی
مفہوم میں یہ
ثقہ راویوں کی
اس حدیث کو
کہا جاتا ہے
جو ضعیف راوی
کی حدیث کے
مخالف ہو۔ یعنی
معروف حدیث،
منکر حدیث کا
متضاد ہے۔
بہتر الفاظ میں
یہ کہا جا
سکتا ہے کہ
منکر حدیث کی
جس تعریف کو
حافظ ابن حجر
نے ترجیح دی
ہے، اس کے
مطابق یہ وہ
حدیث ہے جس کی
مخالفت کے
باعث ضعیف
راوی کی حدیث
کو "منکر" حدیث
قرار دیا
جاتا ہے۔ اس
کی مثال، منکر
کی دوسری میں
گزر چکی ہے۔
ثقہ راویوں
نے موقوف طریقے
پر ابن عباس
رضی اللہ
عنہما سے روایت
کی ہے جو کہ اس
منکر حدیث کے
خلاف ہے۔ اسی
بنیاد پر ابن
اسحاق کہتے ہیں
کہ " یہ حدیث
منکر ہے کیونکہ
ابو اسحاق سے
اس سے متضاد
مفہوم میں
ثقہ راویوں
نے حدیث روایت
کی ہے اور وہ
حدیث 'معروف'
ہے۔" ·
منکر،
موضوع اور
متروک حدیث
کا فرق بیان کیجیے۔ ·
معروف حدیث
سے کیا مراد
ہے۔ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور بائبل کے دیس
میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical Evidence
of God’s Accountability
|
|||