|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 4: مسترد
شدہ خبر |
||
|
سبق 13:
متروک حدیث لغوی
اعتبار سے
متروک، ترک
کا اسم مفعول
ہے یعنی ترک
کی گئی چیز۔
جب انڈے میں
سے چوزہ نکل
آئے تو باقی
بچ جانے والے
چھلکے کو اہل
عرب "التریکۃ" یعنی بے
فائدہ چیز
کہتے ہیں۔ اصطلاحی
مفہوم میں
ایسی حدیث کو
متروک کہا جاتا
ہے جس کی سند
میں کوئی
ایسا راوی
موجود ہو جس
پر جھوٹ
بولنے کا
الزام لگایا
گیا ہو۔ راوی
پر جھوٹ
بولنے کا
الزام لگائے
جانے کے اسباب راوی پر
جھوٹ بولنے
کا الزام
لگائے جانے
کی دو صورتیں
ہیں: · راوی
کوئی ایسی
حدیث بیان کر
رہا ہو، جو
حدیث قبول
کرنے کے
قواعد و
ضوابط کے
خلاف ہو اور
اس حدیث کو اس
شخص کے علاوہ
کوئی اور
بیان نہ کرتا
ہو۔ · راوی
اپنی عام
زندگی میں
جھوٹ بولنے
کی عادت کے
لئے مشہور ہو
لیکن حدیث کے
معاملے میں
اس سے جھوٹ
بولنا ثابت
نہ ہو۔ عمرو بن شمر
الجعفی
الکوفی،
جابر بن ابو
طفیل سے، اور
وہ سیدنا علی
و عمار رضی
اللہ عنہما سے
روایت کرتے
ہیں کہ نبی
صلی اللہ
علیہ واٰلہ وسلم
فجر کی نماز
میں قنوت (دعا)
پڑھتے، اور
یوم عرفۃ (9 ذو الحجۃ)
کو صبح کی
نماز سے
تکبیر پڑھنا
شروع کرتے
اور ایام
تشریق (10-13
ذوالحجۃ) کے
آخری دن عصر
تک یہ پڑھتے
رہتے۔ نسائی،
دارقطنی اور
دیگر ائمہ
حدیث عمرو بن
شمر کے بارے
میں کہتے ہیں
کہ یہ متروک
الحدیث ہے
(یعنی اس کی
بیان کردہ
احادیث
متروک ہیں۔) (ميزان
الاعتدال جـ3
ـ ص 268) جیسا کہ ہم
بیان کر چکے
ہیں کہ ضعیف
احادیث میں
سب سے نچلے
درجے کی حدیث
موضوع ہے۔ اس
کے بعد
متروک، پھر
منکر، پھر
معلل، پھر
مدرج، پھر
مقلوب، پھر مضطرب۔
یہ ترتیب
حافظ ابن حجر
کی دی ہوئی
ہے۔ (التدريب
جـ1 ـ ص 295
والنخبة
وشرحها ص 46) ·
متروک
اور موضوع حدیث
کا فرق بیان
کیجیے۔ ·
متروک
حدیث کے راوی
اور موضوع
حدیث کے راوی
میں کیا فرق
ہے؟ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||