|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 4: مسترد
شدہ خبر |
|||||
|
سبق 8:
مُدَلّس
حدیث مدلس،
تدلیس کا اسم
مفعول ہے۔
لغوی اعتبار
سے تدلیس کا
معنی ہوتا ہے
کہ خریدار سے
بیچی جانے
والی چیز کے
عیب چھپائے
جائیں۔
تدلیس، دلس سے
نکلا ہے۔
ڈکشنری میں
اس کا معنی
اندھیرا اندھیروں
کا اختلاط
ہوتا ہے۔ جب
ایک تدلیس
کرنے والا
راوی حدیث کے
عیوب کو جان
بوجھ کر
چھپاتا ہے تو
اس حدیث کو
"مدلس" (یعنی
تدلیس شدہ
حدیث) کہا
جاتا ہے۔ تدلیس کی
دو بڑی اقسام
ہیں: اسناد
میں تدلیس
اور شیوخ میں
تدلیس۔ حدیث کے
ماہرین نے
تدلیس اسناد
کی مختلف
تعریفیں کی
ہیں۔ ہم ان
میں سے صحیح
اور دقیق
ترین تعریف
کو منتخب
کرتے ہیں جو
دو ائمہ ابو
احمد بن عمرو
البزار اور
ابو الحسن بن
القطان کی
تعریف ہے۔ اس
کے مطابق: · تدلیس
اسناد کی
تعریف: "کوئی راوی
کسی شیخ سے
حدیث روایت
کرتا ہو۔ اس
نے اس شیخ سے
کوئی حدیث
نہیں سنی
لیکن وہ اس حدیث
کو بھی یہ
بتائے بغیر
روایت کر رہا
ہو کہ اس نے اس
حدیث کو اس
شیخ سے نہیں
سنا ہے۔" (شرح
الفیہ عراقی
ج 1 ص 180) · تعریف کی
وضاحت: تدلیس اسناد
کی اس تعریف
کا مطلب یہ ہے
کہ ایک شخص نے حدیث
بیان کرنے
والے شیخ
(مثلاً الف) سے
چند احادیث
سن رکھی ہیں۔
جس حدیث میں
وہ تدلیس
کرنے جا رہا
ہے، اس حدیث
کو اس نے اس
شیخ (الف) سے
نہیں سنا
بلکہ کسی اور
شیخ (ب) سے سنا
ہے۔ وہ اصل
شیخ (ب)، جس سے
اس نے حدیث سنی
ہے، کا ذکر
نہیں کرتا
بلکہ پہلے
والے شیخ (الف)
سے حدیث
روایت کرنے
لگتا ہے اور
روایت کو ذو معنی
الفاظ، جیسے
"الف نے کہا"
یا "الف سے
روایت ہے"،
میں بیان کر
دیتا ہے۔ اس
سے اس کا مقصد یہ
ہوتا ہے کہ
سننے والا اس
وہم میں
مبتلا ہو جائے
کہ اس نے حدیث
پہلے شیخ (الف)
سے سن رکھی
ہے۔ وہ یہ
وضاحت نہیں
کرتا کہ واقعتہً
اس نے یہ حدیث
پہلے شیخ (الف)
سے نہیں سنی ہے۔
وہ واضح
الفاظ جیسے
"میں نے الف
سے سنا ہے" یا
" الف سے مجھ
سے یہ حدیث
بیان کی"
استعمال نہیں
کرتا تاکہ
اسے جھوٹا نہ
سمجھا جائے۔
اس طریقے سے
وہ ایک یا ایک
سے زائد راویوں
کو حذف کر
دیتا ہے۔ · تدلیس
اور ارسال
خفی میں فرق: ابو الحسن بن
القطان یہ
تعریف بیان
کرنے کے بعد
لکھتے ہیں،
"تدلیس اور
ارسال خفی
میں فرق یہ ہے
کہ ارسال خفی
میں راوی اس
شیخ سے
احادیث روایت
کر رہا ہوتا
ہے جس سے اس نے
کبھی بھی
کوئی حدیث
روایت نہیں
کی ہوتی۔
جبکہ تدلیس
کرنے والے
شخص نے اس شیخ
سے دیگر احادیث
بھی تدلیس کے
بغیر روایت
کی ہوتی ہیں۔ اس
کے برعکس
ارسال خفی
کرنے والا
شخص اس شیخ سے
کوئی بھی
حدیث روایت
نہیں کرتا
اگرچہ وہ اس شیخ
کے زمانے میں
موجود ہو اور
اس سے ملا ہوا
بھی ہو۔ · تدلیس
اسناد کی
مثال: حاکم نے
اپنی سند سے
علی بن خشرم
تک روایت کی
ہے۔ وہ کہتے
ہیں کہ ابن
عینیہ نے
زھری سے حدیث
روایت کی۔ ان
سے پوچھا
گیا، "کیا آپ
نے یہ حدیث خود
زہری سے سنی
ہے؟" وہ کہنے
لگے، "نہیں،
میں نے نہ تو
یہ زہری سے
سنی ہے اور نہ
ہی کسی ایسے
شخص سے جس نے
زہری سے یہ
حدیث سنی ہو۔
یہ حدیث
عبدالرزاق
نے معمر سے
اور انہوں نے
زہری سے سنی
ہے۔" اس مثال
میں ابن
عینیہ نے
اپنے اور
زہری کے
درمیان دو
واسطے حذف کر
دیے ہیں۔ (معرفۃ
علوم الحدیث
ص 130) یہ تدلیس
کی ایسی قسم
ہے جو تدلیس
اسناد کی اقسام
میں سے ایک
ہے۔ ·
تدلیس
تسویہ کی
تعریف: ایک شخص اپنے
شیخ سے حدیث
روایت کرے۔
اس سند میں دو
ایسے راوی
پائے جاتے
ہوں جو ثقہ
(قابل اعتماد)
ہوں اور ان کی
آپس میں
ملاقات بھی
ہوئی ہو۔ ان
دونوں کے
درمیان ایک
ضعیف (کمزور)
شخص بھی ہو۔
اب صورتحال
یہ بنے گی کہ
راوی (1)—ثقہ شیخ (2)—ثقہ راوی (3)—ضعیف راوی (4)—ثقہ راوی (5)۔ دونوں
ثقہ افراد 3 اور 5
کی ایک
دوسرے سے
ملاقات ہوئی
ہو گی۔ اب تدلیس
کرنے والا
شخص 1 اس
حدیث کو اس
طرح سے روایت
کرے گا کہ وہ
ضعیف راوی 4 کو حذف
کرتے ہوئے 3 کی روایت
براہ راست 5 سے کر دے
گا۔ اس طریقے
سے وہ اپنی
سند میں تمام ثقہ
افراد کو شامل
کر دے گا۔ یہ
تدلیس کی
بدترین شکل
ہے۔ تدلیس کرنے
والے کا شیخ،
خود تدلیس
کرنے کے لئے
مشہور نہیں
ہو گا۔ تدلیس
کرنے والا
شخص اس طریقے
سے حدیث کو
روایت کرے گا
کہ سننے والا
اس حدیث کو
صحیح سمجھ
بیٹھے گا۔ اس
میں بہت بڑا
دھوکہ پایا
جاتا ہے۔ · تدلیس
تسویۃ کرنے
والے مشہور
ترین لوگ: ان میں بقیۃ
بن ولید اور
ولید بن مسلم
شامل ہیں۔
بقیۃ کے بارے
میں ابو مسعر
کہتے ہیں، "احادیث بقیۃ
لیست نقیۃ
فکن منہا علی
تقیۃ"۔ یعنی
"بقیۃ کی
احادیث صاف
نہیں ہوتیں،
ان میں تقیہ
کے اصول پر
بات کو
چھپایا گیا
ہوتا ہے۔ (ميزان
الاعتدال جـ1
ـ ص 332) · تدلیس
تسویۃ کی
مثال: ابن ابی حاتم
اپنی علل میں
روایت کرتے
ہیں۔ میں نے
اپنے والد کو
اس حدیث کا
ذکر کرتے
ہوئے سنا: اسحق بن
راہویہ،
بقیۃ سے، وہ
ابو وہب
الاسدی سے،
وہ نافع سے،
اور وہ ابن
عمر رضی اللہ
عنہما سے
روایت کرتے
ہیں کہ نبی
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے
فرمایا، "
کسی شخص کے
اسلام کی اس
وقت تک تعریف
نہ کرو جب تک
کہ تم اس کی
رائے کی پختگی
کو نہ پہچان
لو۔" ان کے والد
کہتے ہیں کہ
اس حدیث میں
ایسی بات بیان
کی گئی ہے جو
کہ شاید ہی
کسی کی سمجھ
میں آئے۔ اس
کی سند کچھ اس
طرح ہے
عبیداللہ بن
عمرو (ثقہ) —اسحاق بن
ابی فروۃ
(ضعیف) —نافع (ثقہ)—ابن عمر۔
عبیداللہ بن
عمرو کی کنیت
ابو وہب تھی
اور وہ بنو
اسد (قبیلے کا
نام) سے تعلق
رکھتے تھے۔
اس حدیث میں
بقیۃ (بن ولید)
نے اسحاق بن
ابی فروۃ، جو
کہ ایک ضعیف
راوی ہے، کو
حذف کر دیا اور
عبیداللہ بن
عمرو کا ذکر
نام کی بجائے
کنیت اور
قبیلے سے کر
دیا تاکہ
کوئی یہ
پہچان نہ سکے کہ
اس نے ایک
ضعیف راوی کا
نام غائب کیا
ہے۔ (شرح
الألفية
للعراقي جـ1 ـ
ص 190 والتدريب
جـ1 ـ ص 225) شیوخ میں
تدلیس کی
تعریف یہ ہے
کہ کوئی شخص
اپنے شیخ، جس
سے وہ حدیث
روایت کر رہا
ہے، کا نام،
کنیت، نسب وغیرہ
غیر معروف
طریقے سے
بیان کرے
تاکہ وہ پہچانا
نہ جائے۔ (علوم
الحديث ص 66) تدلیس
شیوخ کی مثال
یہ ہے کہ
ابوبکر بن
مجاہد جو کہ
قرأت کے ائمہ
میں سے ہیں،
کہتے ہیں
"عبداللہ بن
ابی عبداللہ
نے ہم سے یہ
حدیث بیان
کی" اس سے ان کی
مراد ابو بکر
بن ابو داؤد
سجستانی
ہیں۔ · تدلیس
اسناد ایک
مکروہ عمل
ہے۔ اکثر اہل
علم نے اس کی
مذمت کی ہے۔
شعبہ اس کی
مذمت کرنے
میں سب سے آگے
ہیں۔ انہوں
نے اس سے
متعلق سخت
آراء پیش کی
ہیں جن میں سے
ایک یہ ہے کہ
"تدلیس تو
جھوٹ کا
بھائی ہے۔" · تدلیس
تسویۃ مکروہ
ترین عمل ہے۔
عراقی کہتے
ہیں، "جس نے
جان بوجھ کر
تدلیس تسویۃ
کا ارتکاب
کیا، وہ
نہایت ہی
ناقابل
اعتماد شخص
ہے۔" · تدلیس
شیوخ کی
برائی تدلیس
اسناد سے کم
ہے کیونکہ
تدلیس کرنے
والے نے کسی
راوی کو غائب
نہیں کیا ہے
(بلکہ اس کا
غیر معروف
نام بیان کیا
ہے۔) اس کی
کراہت اس وجہ
سے ہے کہ اس نے
ایک روایت کو
ضائع کر دیا
ہے اور حدیث
کے سماع (یعنی
سننے سنانے)
معروف طریقے
کے خلاف عمل کیا
ہے۔ تدلیس
شیوخ کے
مختلف مقاصد
کے مطابق اس
کی کراہت کے
درجے میں فرق
ہوتا ہے۔ تدلیس
شیوخ کے چار
اسباب ہیں: · شیخ
ضعیف ہو یا
غیر ثقہ
(ناقابل
اعتماد) ہو۔
(یہ بات
چھپانے کے
لئے اس کے
مشہور نام کی
بجائے غیر
معروف نام یا
کنیت بیان کی
جائے۔) · اس
کی تاریخ
وفات بعد کی
ہو جس کے باعث
ایک بڑا گروہ
تدلیس کرنے
والے کے ساتھ
روایت میں
شریک ہو
جائے۔ (بڑے
گروہ کے شریک
ہو جانے سے
تدلیس کرنے
والے راوی کی
انفرادیت
اور انا
مجروح ہو
سکتی ہے۔ اس
کی مثال یہ ہے
کہ کوئی
راوی، شیخ
'الف' کے غیر معروف
نام سے روایت
کر رہا ہو اور
یہ تاثر دے رہا
ہو کہ الف سے
اس حدیث کو
صرف اسی نے
سنا ہے۔ اگر
وہ شیخ 'الف' کا
اصل نام بتا
دے تو بہت سے
لوگ یہ کہہ
دیں گے کہ
تمہاری کیا
خصوصیت ہے؟
ہم نے بھی اس
حدیث کو انہی
شیخ سے سنا
ہے۔ ظاہر ہے
کہ یہ مفاد
پرستانہ
رویہ ہے جس کی
دین میں کوئی
گنجائش نہیں
ہے۔) · وہ
راوی سے عمر
میں چھوٹا
ہو۔ (راوی محض
اپنی انا
پرستی کے
باعث اس کا
درست نام ذکر
نہ کرے کہ اس
کا شیخ اس سے
چھوٹا ہے اور
لوگ کہیں گے
کہ یہ اپنے سے
چھوٹے سے
حدیث روایت
کرتا ہے۔) · شیخ
سے کثیر
تعداد میں
روایات پائی
جاتی ہوں۔ راوی
کثیر تعداد
میں اس شیخ کی
روایات بیان
نہ کرنا
چاہتا ہو اس
لئے وہ مختلف
روایتیں اس
کے مختلف
ناموں سے بیان
کر دے۔ (اس کا
مقصد بھی
انفرادیت
پسندی ہے۔) تدلیس
اسناد کے
پانچ اسباب
ہیں: · سند
کو بلند
کرنا۔ (یعنی
ایک شخص سے
روایت کرنے
کی بجائے اس
کے اوپر والے
سے روایت
کرنا تاکہ
سند مختصر ہو
اور اسے
زیادہ قابل
اعتماد
سمجھا جائے۔) · جس
شیخ سے کثیر
تعداد میں
احادیث سنی
ہوں، ان احادیث
(کی اسناد میں
سے) کوئی نام
ضائع ہو جائے۔
(یہ اتفاقی
امر ہے جس کے
لئے تدلیس
کرنے والے کو
مورد الزام
نہیں
ٹھہرایا جا
سکتا۔) · تدلیس
شیوخ کی پہلی
تین وجوہات
کا اطلاق
تدلیس اسناد
پر بھی ہوتا
ہے۔
تدلیس
کرنے والے کی
مذمت کے
اسباب تدلیس
کرنے والے کی
مذمت تین
وجوھات کی
بنیاد پر کی
جاتی ہے: · یہ
واضح نہیں
ہوتا کہ وہ جس
شخص سے روایت
کر رہا ہے، اس
نے واقعتاً
حدیث اسی سے
سنی ہے یا نہیں۔ · ایک
مشکوک بات کے
ظاہر ہونے سے
اس شخص کا
کردار مجروح
ہوتا ہے۔ · اس شخص کا
عمل درست
نہیں کہ اگر
وہ تدلیس نہ
کرتا اور حذف
شدہ شخص کا
ذکر کر دیتا
تو اس کے نتیجے
میں حدیث کو
قبول نہ کیا
جاتا۔ (راجع
الكفاية ص 358) تدلیس
کرنے والے کی
دیگر روایات
کا حکم تدلیس
کرنے والے
شخص کی دیگر
روایات کو
قبول کرنے کے
بارے میں اہل
علم کا
اختلاف ہے۔
اس میں دو مشہور
ترین نقطہ
ہائے نظر یہ
ہیں: · تدلیس
کرنے والے کی
ہر روایت کو
مسترد کر دیا جائے
گا اگرچہ اس
نے اپنے شیخ
سے حدیث کو
خود سنا ہو
کیونکہ
تدلیس بذات
خود ایسا فعل
ہے جو راوی کے
کردار کو
مجروح کرتا
ہے۔ (اس نقطہ
نظر پر زیادہ
اعتماد نہیں
کیا گیا۔) · دوسرا
نقطہ نظر یہ
ہے (اور اسے
قبول کیا گیا
ہے کہ) اگر
تدلیس کرنے
والا واضح
الفاظ میں
کوئی اور
حدیث بیان
کرتا ہے کہ
"میں نے یہ
حدیث فلاں سے
سنی ہے" تو اس
کی حدیث قبول
کی جائے گی۔
اگر وہ شخص ذو
معنی الفاظ
میں حدیث
بیان کرتا ہے
جیسے "فلاں
سے روایت ہے"
تو اس کی حدیث
کو قبول نہیں
کیا جائے گا۔ (علوم
الحديث ص 67 – 68)
تدلیس کا
علم دو طریقے
سے ہوتا ہے: · ایک
تو یہ کہ
تدلیس کرنے
والا پوچھنے
پر خود کوئی
بات بتا دے۔
جیسا کہ اوپر
درج مثال میں
ابن عینیہ نے
خود یہ بات
بتا دی۔ · فنون
حدیث کا ماہر
امام اپنی
تحقیق کے
نتیجے میں
تدلیس سے
آگاہ ہو جائے
اور وہ اس کی
تفصیلات
بیان کر دے۔
تدلیس
اور مدلسین
کے بارے میں
مشہور
تصانیف تدلیس
اور تدلیس
کرنے والے
مدلسین کے
بارے میں
کثیر تصانیف
موجود ہیں۔
ان میں سے
مشہور ترین
یہ ہیں: · خطیب
بغدادی کی
تین کتب۔ ان
میں سے پہلی
کا نام "التبیین
لاسماء
المدلسین" ہے۔ یہ
مدلسین کے
ناموں پر
مشتمل ہے۔دوسری
دو کتب میں ان
افراد کا ذکر
ہے جو تدلیس کی
مختلف اقسام
میں سے کسی
خاص قسم میں
ملوث تھے۔ (الكفاية
ص 361) · برھان
الدین ابن
الحلبی کی "التبیین
لاسماء
المدلسین"۔ · حافظ
ابن حجر کی "تعریف
اھل التقدیس
بمراتب
الموصوفین
بالتدلیس"۔ ·
تدلیس کی
تعریف
کیجیے۔ ·
تدلیس
اسناد اور
تدلیس شیوخ
میں کیا فرق
ہے؟ ·
تدلیس کی
نفسیاتی
وجوہات بیان
کیجیے۔ ·
اوپر
بیان کردہ
کتب کو
انٹرنیٹ پر
تلاش کیجیے۔ |
|||||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||||