|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم:
خبر (حدیث) یونٹ 4:
مسترد شدہ
خبر |
|||
|
سبق 4:
معلق حدیث لغوی
اعتبار سے
"معلق"، علّق
کا اسم مفعول
ہے اور اس کا
مطلب ہے ایسی
چیز جسے
باندھ کر
لٹکا دیا گیا
ہو۔ ایسی سند
کو معلق کہا
جائے گا جو کہ
اوپر کی جانب
تو ملی ہوئی
ہو لیکن نیچے
کی جانب ٹوٹی
ہوئی ہو اور
اس طرح سے اس چیز
کی طرح ہو
جائے جو چھت
سے لٹکائی گئی
ہو۔ اصطلاحی
مفہوم میں یہ
ایسی حدیث کو
کہتے ہیں جس
کے راویوں کی
کثیر تعداد
کو غائب کر دیا
جائے۔ · پوری
کی پوری سند
کو غائب کر دیا
جائے اور یہ
کہا جائے کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا۔ · صحابی یا
صحابی و تابعی
کے علاوہ
تمام راویوں
کو حذف کر دیا
جائے۔ (شرح
نخبۃ ص 42) امام بخاری
نے "باب ما یذکر
فی فخذ" یعنی ران سے
متعلق باب کے
مقدمے میں یہ
روایت نقل کی
ہے: "سیدنا ابو
موسی اشعری
رضی اللہ عنہ
کہتے ہیں کہ
جب سیدنا
عثمان رضی
اللہ عنہ نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے حجرے میں
داخل ہوئے تو
آپ نے اپنی
ٹانگ کو کپڑے
سے ڈھانپ لیا۔
" یہ حدیث
معلق ہے کیونکہ
امام بخاری
نے سوائے
صحابی یعنی سیدنا
ابو موسی
اشعری رضی
اللہ عنہ کے
تمام راویوں
کو حذف کر دیا
ہے۔ معلق حدیث
کو مسترد کر دیا
جائے گا۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ
اس میں حدیث
قبول کرنے کی
شرائط میں سے
"اتصال سند" یعنی
سند کے ملا
ہوا ہونے کی
شرط نہیں پائی
جاتی۔ اس کی
سند میں ایک یا
ایک سے زائد
راویوں کو
حذف کر دیا گیا
ہوتا ہے اور
ان حذف کردہ
راویوں کے
حالات کا ہمیں
علم نہیں
ہوتا۔ صحیحین
میں موجود
معلق احادیث
کا حکم یہ حکم کہ
"معلق حدیث
کو مسترد کیا
جائے گا" عام
کتب کے بارے میں
ہے۔ اگر معلق
حدیث ایسی
کتب میں پائی
جائے جس میں
صرف صحیح
احادیث کو
درج کیا گیا
ہو جیسا کہ صحیح
بخاری و مسلم
تو پھر اس کے
لئے ایک خصوصی
حکم ہے۔ ان
احادیث کو
وعظ و نصیحت
کے لئے
استعمال کیا
جا سکتا ہے
بشرطیکہ ان میں
یہ شرائط پائی
جاتی ہوں۔ · انہیں
معروف صیغے (Active Voice)
میں روایت کیا
گیا ہو۔ جیسے
فرمایا، ذکر
کیا، حکایت کی
وغیرہ۔ اس
معاملے میں
اس کے صحیح
ہونے کا حکم
لگایا جائے
گا۔ · انہیں
مجہول صیغے (Passive Voice)
میں بیان کیا
گیا ہو، جیسے
کہا گیا، ذکر
کیا گیا، حکایت
کی گئی تو اس
معاملے میں
اس کے صحیح ہونے
کا حکم نہیں
لگایا جائے
گا۔ یہ صحیح،
حسن، ضعیف
کچھ بھی ہو
سکتا ہے۔ کسی
"صحیح" نام کی
کتاب میں
مذکور ہو
جانے سے حدیث
صحیح نہیں ہو
جاتی بلکہ اس
کے لئے اسناد
کی تحقیق
کرنے کا طریقہ
ہے جس کی بنیاد
پر احادیث کو
صحیح قرار دیا
جاتا ہے۔
·
معلق حدیث
کی تعریف کیجیے۔
·
معلق اور
ضعیف حدیث میں
کیا فرق ہے؟ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم معاشروں
پر اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||