|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 2: خبر
کی اقسام |
||
|
سبق 5:
خبر عزیز لغوی
اعتبار سے یہ
یا تو "عَزَّ
یَعِزُ" سے
صفت مشبہ ہے
جس کا مطلب ہے
قلیل ہونا یا
پھر یہ "عَزَ
یَعَزُ" سے
صفت مشبہ ہے
جس کا معنی ہے
قوی اور
طاقتور
ہونا۔ اسے یہ
نام اس کے
قلیل اور
نادر ہونے کے
باعث دیا گیا
ہے۔ یہ ایسی
حدیث ہے جو
کسی اور سند
کے باعث قوت
پکڑتی ہے
(لیکن بذات
خود یہ ایک
ایسی روایت
ہوتی ہے جس کے
راوی کم ہوتے
ہیں۔) ایسی حدیث کو
"عزیز" کہا
جاتا ہے جس کی
روایت ہر دور
میں دو یا دو
سے کم افراد
کر رہے ہوں۔
یہ ممکن ہے
کسی دور میں
اس کے راوی تین
یا تین سے
زائد بھی ہو
جائیں لیکن
کسی ایک دور
میں اس کے
راویوں کی
تعداد کا دو
سے کم ہو جانا
ضروری ہے
کیونکہ
(تعریف متعین
کرنے میں) کم طبقات
کا اعتبار
کیا جائے گا۔
یہ وہ تعریف
ہے جو قابل
ترجیح ہے
جیسا کہ حافظ
ابن حجر نے (شرح
نخبہ میں) لکھا
ہے۔ بعض اہل
علم کے نزدیک
عزیز دو یا
تین افراد کی
روایت کو
کہتے ہیں۔ یہ
لوگ بعض
صورتوں میں
مشہور اور
عزیز کے
مابین فرق
نہیں کرتے۔ جیسا کہ
شیخین (امام
بخاری و مسلم
رحمھما اللہ)
نے سیدنا انس
رضی اللہ عنہ
سے اور امام
بخاری نے
سیدنا ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ
سے روایت کیا
کہ رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے
فرمایا: "تم میں سے
کوئی بھی اس
وقت تک صاحب
ایمان نہیں
ہو سکتا جب تک
کہ وہ مجھ سے
اپنے
والدین،
اولاد اور
تمام
انسانوں سے
زیادہ محبت
نہ کرنے لگے۔" (بخاری ،
مسلم) اس
حدیث کو
سیدنا انس
رضی اللہ عنہ
سے قتادہ اور
عبدالعزیز
بن صھیب نے
روایت کیا۔
اس کے بعد
قتادہ سے اس
حدیث کو شعبہ
اور سعید نے
روایت کیا
جبکہ
عبدالعزیز
بن صھیب سے
اسماعیل بن
علیہ اور
عبدالوارث
نے روایت
کیا۔ ان میں
سے ہر ایک سے
پھر بہت سے
افراد نے
روایت کیا۔ اہل علم
نے خاص طور پر
خبر عزیز سے
متعلق کوئی کتاب
نہیں لکھی۔
اس کی وجہ
ظاہر ہے کہ
چونکہ ایسی
احادیث بہت
قلیل تعداد
میں ہیں اور
انہیں الگ سے
لکھنے کا
کوئی فائدہ
بھی نہ تھا،
اس وجہ سے
ایسا نہیں
کیا گیا۔ ·
خبر عزیز
اور مشہور
میں کیا فرق
ہے؟ ·
خبر عزیز
کا حکم بیان
کیجیے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||