|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری،
امن اور
انسانیت کی
محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک
تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم:
خبر (حدیث) یونٹ 2: خبر
کی اقسام |
|||
|
سبق 4:
خبر مشہور لغوی
اعتبار سے
"مشہور" شہرت
کا اسم مفعول
ہے۔ اس کا
مطلب ہے کہ جو
چیز ظاہر اور
مشہور ہو
جائے۔ اس کو
ظاہر ہونے کے
باعث مشہور
کہا جاتا ہے۔
اصطلاحی
مفہوم میں
"خبر مشہور" ایسی
خبر کو کہتے ہیں
جسے ہر دور میں
کم از کم تین
افراد نے روایت
کیا ہو اگرچہ یہ
حد تواتر تک
نہ پہنچی ہو۔ یہ حدیث
مشہور ہے کہ "اللہ تعالی
علم کو ویسے ہی
لوگوں کے سینوں
سے غائب نہیں
کر دیتا بلکہ
وہ اہل علم کو
اس دنیا سے
اٹھا لیتا ہے یہاں
تک کہ کوئی (صحیح)
عالم باقی نہیں
رہ جاتا۔ لوگ
اپنے جاہل
سرداروں کے
پاس جا کر
سوال پوچھتے
ہیں اور وہ بغیر
علم کے انہیں
فتوی دے کر
انہیں گمراہ
کر دیتے ہیں۔" (بخاری،
مسلم، ترمذی،
ابن ماجہ،
احمد) لغوی
اعتبار سے
"مستفیض"
استفاض سے
نکلا ہے جو
خود "فاض" سے
مشتق ہے۔ اس
کا معنی ہے کسی
چیز جیسے پانی
کا پھیلنا۔
اصطلاحی
مفہوم میں اس
کے تین معنی ہیں۔ · یہ
مشہور کا
مترادف ہے۔ · یہ
مشہور کی
نسبت زیادہ
مخصوص اور
متعین ہے۔ اس
کی وجہ یہ ہے
کہ مستفیض کی
شرط یہ ہے کہ
اس کی اسناد
برابر ہوں جب
کہ مشہور میں یہ
شرط نہیں ہے۔ · یہ
مشہور کی
نسبت زیادہ
عام ہے۔ یہ
دوسری رائے
کے مخالف
نقطہ نظر ہے۔ غیر
اصطلاحی معنی
میں خبر
مشہور غیر
اصطلاحی معنی
میں مشہور ایسی
خبر کو کہتے ہیں
جو کہ لوگوں کی
زبان پر عام
ہو جائے
اگرچہ وہ
قابل اعتبار
نہ بھی ہو۔ اس
میں وہ خبریں
بھی شامل ہیں
جن کی ایک یا ایک
سے زیادہ سند
بھی نہ ہو،
اور نہ ہی اس کی
سند اپنی اصل
میں پائی
جائے۔ غیر
اصطلاحی خبر
مشہور کی
اقسام غیر
اصطلاحی خبر
مشہور کی
متعدد اقسام
ہیں: · حدیث کے
ماہرین میں
مشہور خبر: اس کی مثال سیدنا
انس رضی اللہ
عنہ کی وہ روایت
ہے جس میں
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے ایک
مہینہ رکوع
کے بعد رعل
اور ذکوان کے
بارے میں
دعائے ضرر
فرمائی۔
(بخاری، مسلم) · حدیث کے
ماہرین، عام
علماء اور
عوام میں
مشہور خبر: اس کی مثال یہ
حدیث ہے کہ، "مسلمان وہ
ہے جس کے ہاتھ
اور زبان سے
دوسرا مسلمان
محفوظ رہے۔" (بخاری،
مسلم) · فقہ کے
ماہرین میں
مشہور خبر: اس کی مثال یہ
حدیث ہے کہ "حلال کاموں
میں اللہ کے
نزدیک سب سے زیادہ
ناپسندیدہ
کام طلاق ہے۔" (مستدرک
حاکم) · اصول فقہ
کے ماہرین میں
مشہور خبر: اس کی مثال
وہ حدیث ہے کہ "میری امت سے
غلطی اور
بھول چوک کی
صورت میں کئے
گئے ناپسندیدہ
کام پر
مواخذہ نہ ہو
گا۔" اسے ابن حبان
اور حاکم نے
صحیح قرار دیا
ہے۔ · نحو کے
ماہرین میں
مشہور خبر: جیسے "صہیب کتنا
اچھا بندہ ہے۔
اگر وہ اللہ
سے نہ ڈرتا
ہوتا تو اس کی
نافرمانی
کرتا۔" یہ ایک بے
اصل حدیث ہے۔ · عام
لوگوں میں
مشہور خبر: جیسے "جلدی شیطان
کی طرف سے ہوتی
ہے۔" اسے ترمذی نے
اپنی کتاب میں
درج کیا اور
اسے حسن قرار
دیا۔ خبر
مشہور خواہ
وہ اصطلاحی
معنی میں ہو یا
نہ ہو، صحیح یا
غیر صحیح ہو
سکتی ہے۔ اس میں
صحیح، حسن،
ضعیف اور
موضوع احادیث
سب کی سب پائی
جائیں گی۔
اگر اصطلاحی
معنی میں
مشہور حدیث،
صحیح ہو تو
پھر اس کی
شہرت کی خصوصیت
کی بنیاد پر
اسے عزیز اور
غریب قسم کی
احادیث پر
ترجیح دی
جائے گی۔ غیر
اصطلاحی معنی
میں مشہور
احادیث پر کئی
کتب تصنیف کی
گئی ہیں جن میں
سے کچھ یہ ہیں: · امام
سخاوی کی المقاصد
الحسنة فيما
اشتهر على
الألسنة · عجلونی کی
كشف
الخفاء
ومزيل
الإلباس
فيما اشتهر
من الحديث
على السنة
الناس · ابن الدیبغ
الشیبانی کی تمييز الطيب
من الخبيث
فيما يدور
على ألسنة الناس
من الحديث
·
خبر
مشہور کی تعریف
کیجیے اور اس
کا حکم بیان کیجیے۔ ·
اوپر بیان
کردہ کتب حدیث
کو انٹرنیٹ
پر تلاش کر کے
اپنی الیکٹرانک
لائبریری میں
شامل کیجیے۔ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم معاشروں
پر اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||