|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Islamic Studies Program
Knowing
is not enough, we must apply! |
علوم
اسلامیہ
پروگرام
علم
کافی نہیں
ہے، اسے
استعمال
کرنا ضروری
ہے |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
New articles and books are added
this website on 1st of each month. |
||
|
علوم
القرآن
پروگرام تفصیلی
تعارف Click here for the English Version رجسٹریشن
فارم ڈاؤن
لوڈ کرنے کے لیے
یہاں
کلک کیجیے۔ پروگرام
سے متعلق عام
پوچھے جانے
والے سوالات (FAQs) کے لیے یہاں کلک
کیجیے۔ |
||
|
بسم
اللہ الرحمٰن
الرحیم بحیثیت
مسلمان
ہمارا اس بات
پر ایمان ہے
کہ قرآن مجید
اللہ تعالی کی
آخری کتاب ہے۔ بلا
مبالغہ
لاکھوں کی
تعداد میں
مسلمان اس
کتاب کو حفظ
کرتے ہیں۔ قرآن کو
کچھ حصہ تو ہر
مسلمان کو یاد
ہوتا ہی ہے۔
بہت سے
مسلمان اس
کتاب کی
روزانہ
تلاوت کرتے ہیں،
خاص کر رمضان
المبارک کے
مقدس مہینے میں
اس سے
مسلمانوں کا
تعلق مزید
گہرا ہو جایا
کرتا ہے۔ غیر
عرب
مسلمانوں کے
ہاں یہ عام
رواج ہے کہ
قرآن
کو سمجھ کر
پڑھنے سے زیادہ
ان کے ہاں بلا
سوچے سمجھے
تلاوت پر زور
دیا جاتا ہے۔ ہم محض
ثواب کے حصول
کے لئے قرآن
پڑھتے ہیں
اور اس کی دی
ہوئی عظیم
آسمانی ہدایت
سے محروم رہ
جاتے ہیں۔ یہی
وجہ ہے کہ ہم سیدھے
راستے سے
بارہا بھٹک
جاتے ہیں۔
لوگ قرآن کی
تلاوت تو
کرتے ہیں مگر
انہیں اس کی
ہدایت سے کوئی
سروکار نہیں
ہوتا ہے اور
وہ اپنی عملی
زندگی میں شیطان
کی پیروی کر
رہے ہوتے ہیں۔ اللہ
تعالی کا شکر
ہے کہ یہ
رجحان اب تبدیل
ہو رہا ہے اور
مسلمان
بالخصوص
نوجوان نسل
قرآن مجید کے
مطالعے کی
طرف لوٹ رہی
ہے۔ نہ
صرف مسلمان
بلکہ غیر مسلموں
میں بھی اس
کتاب کے
مطالعے کا
رجحان پیدا
ہو چکا
ہے جس نے
کروڑوں
انسانوں کی
زندگی تبدیل
کی۔ قرآن
مجید چونکہ
عربی زبان میں
نازل ہوا ہے،
اس وجہ سے اس
کتاب کے براہ
راست مطالعے
کے لئے نزول
قرآن کے
زمانے کی عربی
زبان سیکھنا ضروری
ہے۔ اس مقصد
کے لئے ہم نے
"قرآنی عربی
پروگرام" کے
نام سے ایک
کورس تیار کیا
ہے جو اس لنک
پر دستیاب ہے: www.mubashirnazir.org/courses/arabic/AR001-00-Arabicurdu.htm زبان
سیکھنا ایک
طویل عمل ہے۔
اس وجہ سے
مناسب یہی ہے
کہ عربی
زبان سیکھنے
کے ساتھ ساتھ
مختلف
دینی علوم
کے مبادیات
اور متوسط
درجے کے
تصورات کا
مطالعہ اردو یا
انگریزی
زبان میں کر لیا
جائے۔ اس طرح
سے عربی سیکھنے
کے ساتھ ساتھ
آپ دینی
علوم کے اہم
تصورات سے
واقف ہو جائیں
گے۔ زبان سیکھنے
کے بعد آپ ان
علوم کا
اختصاصی
درجے (Specialist Level) میں
مطالعہ کر سکیں
گے۔ یہی وجہ
ہے کہ "علوم
القرآن
پروگرام" کے
تمام ماڈیولز
کو اردو اور
انگریزی میں
مہیا کیا جا
رہا ہے۔ غیر
عربوں کے لئے
قرآن مجید کے
مطالعے کا ایک
طریقہ تو یہ
ہے کہ آپ
قرآن کا
ترجمہ پڑھنا
شروع کر دیں۔ یہ
طریقہ ان
لوگوں کے لئے
مفید ہے جو اس
کے مضامین سے
کچھ واقفیت
حاصل کر نا
چاہتے ہوں۔
مگر وہ لوگ جو
اپنی زندگیوں
کو دین کی
دعوت کے لئے
وقف کرنے کا
عزم رکھتے
ہوں، ان کے لئے
مناسب یہی ہے
کہ وہ
علوم
القرآن اور دیگر
متعلقہ علوم
جیسے حدیث،
فقہ، تاریخ،
اخلاقیات،
فلسفہ اور
علم الکلام کا
تفصیلی
مطالعہ کریں
تاکہ وہ دین
کو اس کے پورے
استدلال کے
ساتھ سمجھ کر
دنیا کے
سامنے پیش کر
سکیں۔ یہ
پروگرام ایسے
ہی لوگوں کے
لئے تیار کیا
گیا ہے۔
یہاں
ہم یہ واضح کر
دینا چاہتے ہیں
کہ اگر آپ علمی
کتب کے
مطالعے کا
ذوق نہ رکھتے
ہوں
اور کتابوں
کی موٹائی آپ
کو خوفزدہ کر
دیتی ہو تو
پھر یہ
پروگرام آپ
کے لئے نہیں
ہے۔ ایسی
صورت میں بس یہی
کیجیے کہ اپنی
استطاعت کے
مطابق
روزانہ قرآن
کی تلاوت
کرتے رہیے،
اس کا ترجمہ
پڑہیے، اگر
آپ کے ذہن میں
کوئی سوال پیدا
ہو تو کسی اچھی
تفسیر
اور علماء کی
جانب رجوع کیجیے،
قرآن کی تعلیمات
کو اپنی شخصیت
اور کردار کا
حصہ بناتے
جائیے اور
اللہ کے دین
پر عمل کرتے
رہیے۔ انشاء
اللہ آپ آخرت
کے امتحان میں
کامیاب ہو
جائیں گے۔ اس
پروگرام کے
مخاطب وہی
لوگ ہیں جن میں
مطالعے کا
زبردست
رجحان پایا
جاتا ہو۔ اگر آپ
نے اپنی زندگی
کا مقصد اللہ
کے دین کی علمی
خدمت کو بنا لیا
ہے تو پھر آپ
کو کتابوں سے
تعلق قائم
کرنا ہو گا۔ مطالعے
کا ذوق اپنے
اندر پروان
چڑھانا ہو
گا،
ذہن کو تجزیاتی مطالعے
کا عادی
بنانا ہو گا
اور کھلے ذہن
کے ساتھ دیگر
لوگوں کے علمی
کام کا تنقیدی
مطالعہ کرنا
ہو گا۔ اس کا
اجر آپ کو
آخرت میں
اللہ تعالی کی
رضا کی صورت میں
ضرور ملے گا
اور جنت میں
آپ کا مقام
عام لوگوں سے
کہیں بلند ہو
گا، انشاء
اللہ۔ علوم
القرآن
پروگرام کا
انداز تعلیم دین
کے ایسے طالب
علم جو علم
اور ذہانت کے
اعتبار سے مختلف سطح پر
ہوں، ان کی
ضروریات
مختلف ہوتی
ہے۔
طالب علموں میں
اس فرق کو
مدنظر رکھتے
ہوئے اس
پروگرام کو سات
ماڈیولز میں
تقسیم کیا گیا
ہے: ماڈیول
1: یہ بالکل
ابتدائی
درجے کے
طلباء کے لئے
ہے۔ اس میں ہم
قرآن مجید کے
کچھ مخصوص
اقتباسات لے
کر ان پر عملی
کام کریں گے۔
اس ماڈیول کے
اختتام پر ہم
قرآن مجید کے
پیغام سے
متعارف ہونے
کے ساتھ ساتھ
اس کا مطالعہ
کرنے کے لئے درکار
بنیادی
معلومات بھی
حاصل کر چکے
ہوں گے۔
اسی ماڈیول
میں ہم یہ
کوشش کریں گے
کہ اپنا تزکیہ
نفس کرتے
ہوئے اپنی
شخصیت کو
قرآن کے بیان
کردہ آئیڈیل
کے مطابق
ڈھال سکیں۔
اس ماڈیول کے
لیے کسی
رجسٹریشن کی
ضرورت نہیں ہے۔
آپ اسے یہاں
سے ڈاؤن لوڈ
کر سکتے ہیں۔ ماڈیول
2 تا 6: یہ
درمیانے
درجے کے
طلباء کے لئے
ہیں۔ اس میں
ہم اردو زبان
میں لکھی گئی
قرآن کی
مختلف تفاسیر
کا تقابلی
مطالعہ کریں
گے۔ ان ماڈیولز
کے اختتام پر
ہم علوم
القرآن سے
متعلق اہم ترین
مباحث کا تفصیلی
مطالعہ کر
چکے ہوں گے۔
قرآن مجید پر
عمل اور اس کے
مطابق اپنی
زندگیوں کو
ڈھالنے کا
عمل ہم اس
مطالعے کے
دوران جاری
رکھیں گے۔ ان
تمام ماڈیولز
کی کتب حاصل
کرنے کے لیے
رجسٹریشن کی
ضرورت ہے جس
کے لیے آپ فارم
یہاں سے ڈاؤن
لوڈ کر سکتے ہیں۔
ماڈیول
7: یہ ماڈیول
ان طلباء کے
لئے ہے جو
علوم القرآن
میں اختصاصی
درجے (Specialist level) کی
مہارت حاصل
کرنا چاہتے
ہوں۔
قرآن مجید کی
زبان، تفسیر،
فقہی و کلامی
مسائل ، تاریخ
وغیرہ سے متعلق اعلی
درجے کے
مباحث کا
مطالعہ
انشاء اللہ
اس درجے پر کیا
جائے گا۔ غیر
مسلم اہل علم
بالخصوص
مستشرقین کی
جانب سے قرآن
مجید پر جو
سوالات و
اشکالات
اٹھائے گئے ہیں،
ان کا مطالعہ
کر کے ان کے
جوابات کے
حصول کی کوشش
کی جائے گی۔ علوم
القرآن
پروگرام کے
مقاصد اس
پروگرام کے
مقاصد یہ ہیں: · قرآن مجید
کے مضامین کا
تفصیلی
مطالعہ · مختلف
قرآنی تفاسیر
کا تقابلی
مطالعہ · اپنی شخصیت
اور کردار کو
قرآن کے
تقاضوں کے
مطابق ڈھالنے
کی کوشش · قرآنی
تعلیمات سے
متعلق
اہم علمی،
عقلی اور عملی
مسائل کا
تعارف · قرآنی
اسالیب سے
واقفیت · قرآن مجید
کی آیات کے پس
منظر سے واقفیت · اس بات کا
فہم کہ مختلف
دینی، فقہی
اور مسلکی پس
منظر سے تعلق
رکھنے والے
مفسرین
(تفسیر
لکھنے والے)
قرآن کو کیسے
سمجھتے ہیں مطالعے کا
طریق کار علم
التعلیم کے میدان
میں ہونے والی
مختلف تحقیقات
سے یہ بات
ثابت ہوئی کہ
عام ذہانت کا
حامل انسان
جو کچھ سنتا ہے ، وہ
اس کا 30 سے 40
فیصد یاد
رکھتا ہے؛ جو
کچھ وہ دیکھتا
ہے، اس کا 60 تا 70فیصد
اس کے ذہن میں
راسخ ہو جاتا
ہے اور جو کچھ
وہ عملاً
کرتا ہے، اس
کا 80 سے 90
فیصد وہ سیکھ
لیتا ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ ہم
نے اس
پروگرام میں
ایسا طریقہ
اختیار کیا
ہے جس میں
طالب علم کو
قرآن مجید کے
ایک منتخب
نصاب پر عملی
کام کرنا پڑے۔ اس عملی
کام کے نتیجے
میں قرآن مجید
کی تعلیمات
اس کی روح کی
گہرائیوں میں
اترتی چلی
جائیں اور
قرآن کا پیغام
اس کی رگوں میں
خون کی طرح
گردش کرنے
لگے۔ اس
پروگرام میں
ہم قرآن مجید
کی پانچ تفاسیر
کا تقابلی
مطالعہ کریں
گے تاکہ ہم یہ
جان سکیں کہ
مختلف پس
منظر اور
مکاتب فکر سے
تعلق رکھنے
والے افراد
قرآن کو کس طریقے
سے سمجھتے ہیں۔
ان تفاسیر
اور ان کے
مصنفین
کا تعارف تفسیر
کے نام کے
حروف تہجی کی
ترتیب سے یہاں
پیش کیا جا
رہا ہے: · احسن البیان: اس کے
مصنف
حافظ صلاح
الدین یوسف ہیں
جو ایک بڑے
سلفی اہل حدیث
عالم ہیں
اور
دالسلام پبلی
کیشنز میں ریسرچ
ڈیپارٹمنٹ
کے سربراہ ہیں۔ تفسیر
مختصر اور جامع ہے۔ ترجمہ
مولانا محمد
جونا گڑھی کا
کیا ہوا ہے
اور اس پر
حواشی یوسف
صاحب نے
لکھے ہیں۔ انہوں
نے سلفی نقطہ
نظر کے مطابق
تفسیر میں
احادیث اور
اقوال صحابہ
و تابعین کو
اپنی بنیاد
بنایا ہے اور
بہت سے فقہی
مسائل کو اپنی
تفسیر کا حصہ
بنایا ہے۔ انہیں
ہم مختصراً "یوسف
صاحب" کہیں
گے۔ · تفہیم
القرآن: اس کے
مصنف سید ابو
الاعلی
مودودی (1903-1979)
ہیں جن کا
تعلق ہندوستان
کے
دارالحکومت
دہلی سے تھا۔ انہوں
نے 1940ء میں جماعت
اسلامی کی بنیاد
رکھی جس کا
مقصد روئے زمین
پر ایک اسلامی
حکومت کا قیام
تھا۔ تقسیم
ہند کے بعد سید
صاحب
پاکستان آ
گئے اور
انہوں نے عملی
سیاست میں
حصہ لیا۔ بیسویں
صدی میں
"اسلام کی سیاسی
تعبیر" کی
علمی و عقلی
بنیادیں
انہوں نے ہی پیش
کیں۔ ان کی
تحریروں کا
دنیا کی
متعدد
زبانوں میں
ترجمہ ہوا۔
مصر کی اخوان
المسلمون سے
لے کر عالم
اسلام کی دیگر
سیاسی اسلامی
تحریکوں نے
اپنے نظریات
کی آبیاری
انہی کی تحریروں
سے کی۔
اخوان کے
مشہور
راہنما سید
قطب (وفات 1385H/1966CE
)
مودودی صاحب
سے بہت متاثر
تھے جس کی
جھلک
ان کی مشہور
تفسیر "فی
ظلال القرآن"
میں نظر آتی
ہے۔
روایتی
علماء نے ان کی
بہت مخالفت کی
مگر بہت سے
معاملات میں
ان کا اثر بھی
قبول کیا۔ اس تفسیر
کو ہم نے اس
کورس میں
"اسلام کی سیاسی
تعبیر" کی
نمائندہ
کتاب کی حیثیت
سے شامل کیا
ہے۔ اس کورس میں
ہم ان کا ذکر
مختصراً "مودودی
صاحب" کے نام
سے کریں
گے۔ · ضیاء
القرآن: اس تفسیر کے
مصنف پیر
محمد کرم شاہ
الازہری (1918-1998) کا
تعلق ایک صوفی
خانوادے سے
تھا مگر ان کے
ہاں علم دین
کو بہت اہمیت
دی جاتی تھی۔
وہ بھیرہ،
پنجاب میں پیدا
ہوئے۔ ان کے
والد نے
انہیں اعلی
دینی تعلیم
کے جامعۃ
الازہر
بھیجا۔ آپ انگریزی
زبان اور جدید فلسفہ
پر بھی عبور
رکھتے تھے۔
واپسی پر
انہوں نے بھیرہ
میں ایک بڑا
دارالعلوم
قائم کیا۔ ان کی
تفسیر کا نام
"ضیا ء
القرآن" ہے۔ اس تفسیر
کو ہم نے بریلوی
مکتب فکر اور
اہل تصوف کی
نمائندہ تفسیر
کے طور پر
شامل کیا ہے
اس کورس میں
ہم انہیں
مختصراً "پیر
صاحب" کے نام سے یاد
کریں گے۔ · معارف
القرآن: یہ تفسیر مفتی
محمد شفیع
عثمانی (وفات 1976) کی
تصنیف ہے جو
علمائے دیوبند میں اعلی
مقام کے حامل
ہیں۔ ان کی
تعلیم
بالعموم روایتی
دینی طریقے
پر ہوئی مگر
انہیں جدید
علوم سے بھی
شغف حاصل تھا۔
تقسیم ہند کے
بعد آپ
پاکستان آ گئے
اور کراچی میں
ایک بہت بڑے
دارالعلوم کی
بنیاد رکھی۔ یہ
تفسیر دیوبندی
مکتب فکر کی
نمائندہ تفسیر
کے طور پر اس
کورس کا حصہ
بنائی گئی ہے۔
اس کورس میں
ہم انہیں
مختصراً
"عثمانی صاحب"
کہیں گے۔ · تفسیر
نمونہ: یہ اہل تشیع
کی نمائندہ
تفسیر ہے جو ایران
کے سات اہل
علم نے آیت
اللہ ناصر
مکارم شیرازی صاحب (1924–Present) کی قیادت
میں اصلاً
فارسی زبان میں
لکھی تھی۔ اس
کا اردو
ترجمہ
مولانا سید
صفدر حسین
نجفی صاحب نے
کیا ہے۔
اس تفسیر میں
بہت سے علمی
اور فلسفیانہ
مسائل سے بحث
کی گئی ہے۔ ہمیں
اس تفسیر کا
جو نسخہ مل
سکا ہے، اس میں
سورۃ
الانفال سے
لے کر سورۃ بنی
اسرائیل تک کی
سورتیں شامل
نہیں ہیں۔ اس کورس
میں ہم
مختصراً انہیں
"شیرازی
صاحب"کے نام
سے یاد کریں
گے۔ ان
پانچوں
تفاسیر کے ساتھ
ساتھ ہماری ٹیکسٹ
بکس یا ورک
بکس اضافی ہو
گی۔ اس کورس میں
ہم قرآن مجید
کا ایک منظم (Systematic) انداز میں
مطالعہ کریں
گے اور ہماری
ورک بکس آپ کو
پانچوں تفاسیر
کا منظم
انداز میں
مطالعہ کرنے
میں مدد دے گی۔ ان میں
قرآن مجید کے
مختلف حصوں
کو ان کے
اندرونی نظم (Structure) کی بنیاد
پر اسباق میں
تقسیم کیا گیا
ہے۔ ہر سبق کے
شروع میں کچھ
تعارف ہے اور
اس کے ساتھ
اسائنمنٹس دی
گئی ہیں۔ اس
کورس میں
متعدد مکاتب
فکر کی تفاسیر
شامل کرنے کا
مقصد یہ ہے کہ
ہم قرآن کا
مطالعہ کھلے
ذہن سے کریں
اور یہ دیکھیں
کہ مختلف پس
منظر اور
مکتب فکر سے
تعلق رکھنے
والے افراد
قرآن کو کیسے
سمجھتے ہیں۔ ہمارے
ہاں مختلف
فرقوں کے
لوگوں میں ایک
دوسرے سے
متعلق بہت سی
غلط فہمیاں
بھی پائی جاتی
ہیں جس
کی بنیادی
وجہ ایک
دوسرے کی
کتابوں کو نہ
پڑھنا ہے۔ اس
روایت کو
توڑتے ہوئے
ہم اس کورس میں
یہ کوشش کریں
گے کہ
مثبت، غیر
جانبدار اور
کھلے ذہن کے
ساتھ سبھی
مکاتب فکر کی
تفاسیر کا
مطالعہ کیا
جائے ۔ آپ
کو ان پانچوں
تفاسیر کے ہر
ہر صفحے کا
مطالعہ کرنے
کی ضرورت نہیں
ہے۔ اس کی
بجائے
اسائنمنٹس
کو اس طرح سے ڈیزائن
کیا گیا ہے کہ
ان تفاسیر کے
اہم اور
منتخب حصوں
کا مطالعہ آپ
خود بخود کر لیں
گے۔ اس
بات کو یاد
رکھیے کہ ترجمہ و
تفسیر ایک
انسانی کام
ہے۔ اس میں
غلطی کا
امکان ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ آپ
کو اپنا ذہن
کھلا رکھ کر
تنقیدی
انداز میں ان
تمام تفاسیر
کا مطالعہ
کرنا چاہیے۔
ہماری کوشش
ہو گی کہ ہم
بالکل غیر
جانبدار ہو کر
ان تمام تفاسیر
کا مطالعہ کریں
اور صرف اور
صرف دلیل ہی کی
بنیاد پر کسی
کی بات کو
قبول کریں
اور دلیل ہی کی
بنیاد پر کسی
کی بات
کو رد کریں۔
اس ضمن میں
شخصیت پرستی
اور فرقہ
وارانہ تعصب سے ہمیں
مکمل طور پر
پرہیز کرنا
ہو گا۔ اگر ہم
پہلے سے ہی ایک
بات مان کر قرآن
کو اس کے
مطابق توڑنے
مروڑنے کی
کوشش کریں گے
تو ہم اللہ کی
کتاب کے ساتھ
ایک جرم عظیم
کا ارتکاب کر
رہے ہوں گے۔ ایسی
صورت میں ہم
کبھی اس کتاب
سے ہدایت
حاصل نہ کر سکیں
گے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم اپنی
پسند ناپسند
اور تعصبات
کو اللہ کی
کتاب کے آگے
قربان کر دیں۔ یہ
تمام تفاسیر ہم نے
متعلقہ ویب
سائٹس سے
حاصل کی ہیںجن
کے نام آگے آ
رہے ہیں۔
تفاسیر کے
متن کی درستگی
انہی کی ذمہ
داری ہے۔
مناسب ہو گا
اگر آپ ہر ہر
تفسیر کے
اسلوب سے
واقفیت حاصل
کر لیں تا کہ
اس کا مطالعہ
کرتے ہوئے آپ
کو دقت نہ ہو۔
تفاسیر کے
اسلوب کی کچھ
تفصیل یہ ہے: · پیر کرم
شاہ صاحب نے
تفسیر میں ہر
سورۃ کو ایک
الگ باب میں بیان
کیا ہے۔
تفسیر کے
شروع میں ایک
مقدمہ دیا گیا
ہے جس میں نہایت
ہی اہم مسائل
بیان کیے گئے
ہیں۔ ہر سورۃ
کے آغاز میں
اس کا تعارف
موجود ہے۔ ہر
صفحے پر مصنف
عربی متن اور
اس کے عین نیچے
اس کا ترجمہ دیتے
ہیں۔ پیر
صاحب کے
ترجمے کی
خصوصیت یہ ہے
کہ یہ بیک وقت
لفظی اور
بامحاورہ
ترجمہ ہے۔ ترجمے میں
تفسیری نوٹس
کے نمبر دیے
ہوتے ہیں جس
سے متعلق نوٹ
نیچے دیا
ہوتا ہے۔ · مکارم شیرازی
صاحب نے بھی
اپنی تفسیر
کو سورتوں کے
اعتبار سے
ابواب میں
تقسیم کیا ہے۔
ہر سورۃ کے
آغاز میں وہ
اس کا تعارف پیش
کرتے ہیں۔ اس
کے بعد چند آیات
اور ان کا
ترجمہ دیتے ہیں
اور پھر ان آیات
کی تفسیر بیان
کرتے ہیں۔ اس
کے بعد پھر
چند آیات،ان
کا ترجمہ اور
پھر تفسیر بیان
کرتے ہیں۔ اردو
ترجمہ صفدر
حسین نجفی
صاحب نے کیا
ہے جو کہ
بامحاورہ ہے۔ · مفتی شفیع
عثمانی صاحب
کا طریقہ بھی یہی
ہے۔ ہر سورۃ
کے آغاز میں
اس کا تعارف،
پھر چند آیات
اور ان کا
ترجمہ، اس کے
بعد ان آیات کی
تشریح و تفسیر۔
انہوں نے بھی
ترجمے میں
لفظی اور
بامحاورہ
اسالیب کو
اکٹھا کیا ہے۔
تفسیر میں وہ
پہلے خلاصہ
تفسیر بیان
کرتے ہیں،
پھر "حل لغات"
کے عنوان سے
قرآن کے
انفرادی
الفاظ کا معنی
بیان کرتے ہیں،
پھر "معارف و
مسائل" کے
عنوان کے تحت
متعلقہ آیات
میں ایک ایک
مسئلہ لے کر
اس کی توضیح
کرتے ہیں۔ · مودودی
صاحب کا
اسلوب وہی ہے
جو پیر صاحب
نے اختیار کیا
ہے۔ ہر سورۃ
کے آغاز میں
وہ اس کا
تعارف پیش
کرتے ہیں جس کی
خاص بات
یہ ہے کہ وہ
اس میں سورۃ
کا تاریخی پس
منظر بیان
کرتے ہیں۔ اس
کے بعد سورۃ
کے مضامین
اور ان کا
باہمی ربط بیان
کر دیتے ہیں۔
تفسیر کے
اندر وہ ہر
صفحے کے اوپری
حصے میں قرآن
کا عربی متن، درمیان
میں ترجمہ
اور نچلے حصے
میں تفسیر بیان
کرتے ہیں۔ ترجمے
اور تفسیر کو
مربوط کرنے
کے لئے انہوں
نے فٹ نوٹس کا
طریقہ اختیار
کیا ہے۔
مودودی صاحب
اور پیر صاحب
کے ترجموں میں
فرق یہ ہے کہ
مودودی صاحب
نے بامحاورہ
ترجمہ کے ذریعے
قرآن کی
ترجمانی کی ہے
جبکہ پیر
صاحب نے لفظی
اور
بامحاورہ
اسالیب کو
اکٹھا کیا ہے۔
عثمانی صاحب نے بھی
دونوں اسالیب
کو یکجا کرنے
کا اسلوب اختیار
کیا ہے۔ · یوسف
صاحب کی تفسیر
کا فارمیٹ
کچھ مختلف ہے۔
انہوں نے
قرآن مجید
اور جونا گڑھی
صاحب کے
ترجمے کو دو
کالمز میں پیش
کیا ہے۔ دایاں
کالم قرآنی
متن کے لئے
اور بایاں
کالم ترجمہ
کے لئے۔
ترجمہ بامحاورہ
ہے۔ صفحے کے
نچلے حصے میں
تفسیر دی گئی
ہے۔ ترجمہ و
تفسیر کو فٹ
نوٹ کے نمبر
کے تحت مربوط
کیا گیا ہے۔ قرآنی تفاسیر
کا تقابلی
مطالعہ کیسے
کیا جائے؟ قرآنی
تفاسیر کے
تقابلی
مطالعہ کے
لئے ان نکات
پر عمل کیجیے: 1.
پانچوں تفاسیر
کو ڈاؤن لوڈ
کر لیجیے۔ ان
کے مختلف
صفحات پلٹ کر
دیکھیے اور
جس تفسیر کا
اسلوب
آپ کو اچھا
لگے، اس کا
انتخاب کر لیجیے۔
اس تفسیر کا
آپ نے مکمل
مطالعہ کرنا
ہو گا۔ باقی
تفاسیر کے
مکمل مطالعے
کی ضرورت نہیں
ہو گی البتہ
ہر سبق میں آپ
کو جو
اسائنمنٹس دی
جائیں گی،
انہیں مکمل
کرنے کے لئے
آپ کو تمام
تفاسیر سے ہی
رجوع کرنا ہو
گا۔ اس طریقے
سے آپ خود
بخود تقابلی
مطالعہ کا
کام مکمل کر لیں
گے۔ 2.
ہر سبق کے
آغاز میں کچھ
تعارفی نوٹس
دیے گئے ہیں۔
ان کا مطالعہ
کیجیے اور اس
سبق سے
متعلقہ
اسائنمنٹس
کو بھی پڑھ لیجیے۔ 3.
سبق میں زیر
مطالعہ آیات
کی تلاوت کیجیے
اور اپنی
پسندیدہ تفسیر
میں ان کا
ترجمہ بھی
پڑھ لیجیے۔ 4.
ترجمہ پڑھتے
ہوئے جو
سوالات آپ کے
ذہن میں پیدا
ہوں، انہیں
نوٹ کرتے جائیے
اور اپنے
پسندیدہ
مصنف کی تفسیر
میں ان کا
جواب تلاش
کرنے کی کوشش
کیجیے۔
اس کے بعد اسی
جواب کو دوسری
تفاسیر میں
بھی تلاش کیجیے۔ 5.
تفسیر کا مطالعہ
کرتے ہوئے
قرآن مجید کے
عربی متن اور
ترجمہ کو ایک الگ
ونڈو میں
کھولے رکھیے
اور ترجمہ و
تفسیر پڑھتے
ہوئے بار بار
اسے عربی متن
سے لنک کیجیے۔اس
کا فائدہ یہ
ہو گا کہ آپ
قرآن مجید کی
زبان اور
اسالیب سے
واقف ہوتے
چلے جائیں گے۔ 6.
ہر سبق میں دی
گئی
اسائنمنٹس کو
حل کیجیے۔ ان
اسائنمنٹس
کو اس طرح ڈیزائن
کیا گیا ہے کہ
ہر تفسیر میں
شامل اہم ترین
مباحث
خود بخود آپ
کے مطالعے میں
آتے چلے جائیں
گے۔ اس طریقے
سے آپ کو تفاسیر
کو بہت زیادہ
کھنگالنے کی
ضرورت پیش نہیں
آئے گی۔ 7.
اپنے جوابات
کے لئے ایک
اسائنمنٹ بک
تیار کیجیے۔ بہتر ہو
گا کہ آپ یہ سب
کسی ورڈ فائل
میں لکھیے۔
بصورت دیگر
آپ ہارڈ کاپی
کی صورت میں
بھی اپنے
جوابات لکھ
سکتے ہیں۔
بعض ایسی
اسائنمنٹس
بھی ہیں جو آپ
کئی اسباق میں
تیار کریں گے۔ 8.
اپنی
اسائمنٹس کو mubashirnazir100@gmail.com پر بھیجیے
تاکہ
ان پر تبصرہ
کیا جا سکے۔ 9.
اگر آپ کو
تمام تفاسیر
میں کسی سوال
کا جواب نہ
ملے تو بلا
تکلف مصنف کو
ای میل کیجیے۔ ایڈمیشن کی
شرائط اور
کورس کا طریقہ
کار اس کورس
کا مقصد آپ کو
ذاتی سطح پر (Personalized) تعلیمی
خدمت فراہم
کرنا ہے۔ ایڈمیشن
کا طریقہ کار
بالکل سادہ
ہے۔ نیچے دیے
ہوئے لنک سے رجسٹریشن
فارم ڈاؤن
لوڈ کر کے mubashirnazir100@gmail.com پر بھیج
دیجیے۔ آپ کو
کورس بکس اور
متعلقہ
استاذ کا ای میل
ایڈریس
فراہم کر دیا
جائے گا۔
روزانہ بنیادوں
پر آپ کو ایک
سبق کا از خود
مطالعہ کرنا
ہو گا اور اس
ضمن میں جو
سوالات پیدا
ہوں، انہیں
بذریعہ ای میل
اپنے استاذ
کے سامنے پیش
کرنا ہو گا۔ اگر
ضرورت محسوس
ہوئی تو آپ
بذریعہ Skype
یا Gmail آن
لائن رابطہ
کر کے بھی
اپنے سوالات
ڈسکس کر سکیں
گے۔ آپ کا
استاذ سے ون
ٹو ون تعلق اس
کورس میں نہایت
ہی اہمیت کا
حامل ہو گا۔ ہر ہفتے،
آپ کو ایک
پراگریس
رپورٹ بھیجنا
ہو گی جس میں
اس ہفتے میں کیے
گئے مطالعے کی
تفاصیل
فراہم کرنا
ہوں گی۔ جیسے
ہی آپ ایک ماڈیول
ختم کریں گے،
ایک مختصر سا
امتحان لیا
جائے گا جس کے
بعد آپ اگلے
ماڈیول کا
آغاز کریں گے۔ پروگرام کی
فیس اس
پروگرام میں
شرکت کی فیس یہ
ہے کہ آپ جو
رقم ہر ماہ
آسانی سے
نکال سکیں،
وہ آپ اپنے قریب
کسی ایسے
ضرورت مند
شخص کو ادا کریں
گے، جو کہ پیشہ
ور بھکاری نہ
ہو بلکہ محنت
و مشقت کرتا
ہو مگر اس کے
اخراجات
پورے نہ ہو
پاتے ہوں۔ اپنی
پراگریس
رپورٹ میں ہر
ماہ آپ یہ
کنفرمیشن دیں
گے کہ
آپ نے فیس ادا
کر دی ہے۔ اگر آپ فیس
ادا کرنے کی
پوزیشن میں
نہیں ہیں تو کوئی
مسئلہ نہیں
ہے۔ پروگرام سے
متعلق عام
پوچھے جانے
والے سوالات (Frequently
Asked Questions) اس
کے لیے یہاں
کلک کیجیے۔ اللہ
تعالی ہم سب
کو قرآن مجید
کا صحیح فہم عطا
فرمائے
اور قرآن کی
تعلیمات کو
ہماری شخصیت
کا حصہ بنائے۔ محمد
مبشر نذیر رمضان
1432/ اگست 2011 رجسٹریشن
فارم ڈاؤن
لوڈ کرنے کے لیے
یہاں
کلک کیجیے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت / Quranic
Concept of Human Life Cycle
/ Empirical Evidence of God’s Accountability
|
||